ملال ہے تو انسان ہے | Z. J. Rihal

             انسانیت صرف جینے کا نام نہیں

بلکہ دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے اور اپنی غلطیوں پر نادم ہونے کا نام ہے۔ اگر انسان کا ضمیر مر جائے تو وہ محض گوشت پوست کا ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ یہ نظم اسی "ملال" اور "احساس" کے گرد گھومتی ہے جو ہمیں انسان بناتا ہے۔



ملال ہونا چاہیے، زیاں ہونا چاہیے


دل میں کوئی درد کا نشاں ہونا چاہیے


جب جگیں اشک کسی کی آنکھوں میں


جب بکھریں کرچیاں خوابوں کی


جب کسی کا دل دکھا کر ہم پلٹ کر گھر کو آئیں


اپنے ہی اندر کسی دیوار سے ٹکرائیں


تب...


white bird a poem by zjrihal


ملال ہونا چاہیے


فلک سے جب کوئی ٹوٹا ہوا تارا گرے


زمیں پر جب کوئی بکھرا ہوا سہارا گرے


کتابِ زیست کے کالے حروف پڑھتے ہوئے


ہوائی الجھے دھاگوں کو کہیں بنتے ہوئے


ملال ہونا چاہیے


جو درد دیکھ کر خود درد میں نہ ڈھل سکے


جو کربِ ذات کی بھٹی میں ہی نہ جل سکے


وہ آدمی تو ہے، مگر انسان تو نہیں!


کیونکہ...


ملال ہے تو انسان ہے

 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

It's All Fake: A Poem by Z.J Rihal.